شہید برہان وانی کی برسی پر مقبوضہ وادی میں شٹر ڈاون، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل، قبرستان تک سیل


شہید برہان وانی کی برسی پر مقبوضہ وادی میں شٹر ڈاون، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل، قبرستان تک سیل

مقبوضہ وادی کشمیر میں حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی کے موقع پر پوری وادی میں کرفیو کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق شہید کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے حریت قیادت نے ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی ہے جس کے بعد وادی میں قابض بھارتی فوج نے مکمل شٹ ڈاؤن کرکے کرفیو نافذ کررکھا ہے۔
قابض بھارتی افواج نے سیکیورٹی کے نام پر مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کو بے خبر رکھنے کے لیے اپنے روایتی ہتھکنڈے کے طور پر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کردی ہیں اور حد یہ ہے کہ قبرستان تک کو سیل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ وادی کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والی تنظیموں نے ہرتال کی کال دینے کے ساتھ ساتھ مظاہروں کا اعلان بھی کررکھا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی حکام نے کولگام سمیت چار اضلاع میں موبائل و انٹرنیٹ سروسز معطل کی ہیں جب کہ جموں کو سری نگر سے ملانے والی اہم شاہراہ پر بھی بھارتی سیکیورٹی کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق برہان وانی کی شہادت نے علاقے کے نوجوانوں میں حق خود ارادیت کے حصول کی خاطر ایک نئے جذبے کو جنم دیا اور جاری تحریک مزاحمت میں ایک نئی روح پھونکی تھی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے برہان وانی کی تیسری برسی کے موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ برہان وانی دنیا سے چلے گئے لیکن عوام کے دلوں میں ہیں۔
اسی طرح چیئرمین تحریک حریت جموں و کشمیر محمد اشرف صحرائی نے برہان وانی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شہادت نے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے ایک نئے جذبے کو جنم دیا ہے۔
دھیان رہے کہ اس سے قبل برہان وانی کے چھوٹے بھائی خالد کو بھی قابض بھارتی افواج نے فائرنگ کرکے شہید کیا تھا۔
یاد رہے کہ شہید برہان وانی 19 ستمبر 1994 میں جموں کشمیر کے ایک گاؤں شریف آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے صرف 15 سال کی عمر میں بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد آزادی کا آغاز کیا۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج نے ایک گھر میں ان کی موجودگی کی خبر پا کر اس گھر کو بم سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں برہان وانی اپنے 2 ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے تھے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں 2 ماہ کے لئے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

 

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری