ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا منصوبہ مسترد، بیت المقدس فروخت کے لیے نہیں، محمود عباس


ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا منصوبہ مسترد، بیت المقدس فروخت کے لیے نہیں، محمود عباس

محمود عباس کا کہنا تھا کہ 'میں ٹرمپ اور نیتن یاہو سے کہوں گا کہ بیت المقدس فروخت کے لیے نہیں، ہمارے کوئی حقوق فروخت کے لیے نہیں اور ہم بارگین کے لیے نہیں ہے اور آپ کی ڈیل، سازش کامیاب نہیں ہوگی'۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق؛ فلسطینی صدر محمود عباس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقی وسطیٰ کے امن منصوبے کو 'صدی کا تھپڑ' قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔

امریکی صدر کے اعلان کے بعد سے غزہ میں مغربی کنارے پر ہزاروں فلسطینی سراپا احتجاج ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ بیت المقدس اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی بیت المقدس میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

فلسطینیوں نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کردیا تھا جو پورے مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت نہیں دکھائے کیونکہ اس علاقے میں مسلمانوں، یہودیوں اور عسائیوں کے مقدس مقامات موجود ہیں۔

تاہم امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ بیت المقدس، اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت رہے گا۔

ادھر اس معاملے پر محمود عباس نے اسرائیلی زیرتسلط مغربی کنارے میں رمل اللہ میں ٹیلی ویژن پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ 'میں ٹرمپ اور (اسرائیلی وزیراعظم بینجمن) نیتن یاہو سے کہوں گا کہ بیت المقدس فروخت کے لیے نہیں، ہمارے کوئی حقوق فروخت کے لیے نہیں اور ہم بارگین کے لیے نہیں ہے اور آپ کی ڈیل، سازش کامیاب نہیں ہوگی'۔

محمود عباس کا کہنا تھا کہ 'کسی فلسطینی، عربی، مسلمان یا مسیحی بچے کے لیے' یوروشلم کے بغیر ریاست کو تسلیم کرنا مشکل ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مغربی کنارے اور غزہ سمیت شہر کے مشرقی حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔

فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ فلسطینی صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی حمایت کی بنیاد پر مذاکرات کو تسلیم کرے گا۔

حماس کے عہدیدار سمیع ابو ظہری نے رائٹرز کو بتایا کہ 'ٹرمپ کا بیان جارحانہ ہے اور یہ مزید غصے کو بڑھائے گا'۔

انہوں نے کہا کہ یوروشلم سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بکواس ہے اور بیت المقدس ہمیشہ فلسطینیوں کی زمین رہے گا،فلسطین اس منصوبے کا مقابلہ کریں گے اور یروشلم فلسطینوں کی زمین ہی رہے گی۔

دوسری جانب امریکی منصوبے کے خلاف فلسطینی سراپا احتجاج ہیں اور غزہ شہر میں فلسطینیوں نے ٹائر نذرآتش کیے اور 'ٹرمپ بے وقوف ہے' کے نعرے لگائے۔

اس بارے میں مظاہرے میں شامل ایک شخص نے کہا کہ ہم یہاں شرمناک امریکی منصوبے کو مسترد کرنے آئے ہیں، عرب دنیا میں تمام تباہی کے لیے ذمہ دار ہے۔

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری