امریکا اور طالبان کے مابین فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز


امریکا اور طالبان کے مابین فیصلہ کن مذاکرات کا آغاز

امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات عمل کا ممکنہ طور پر فیصلہ کن دور دوحہ میں شروع گیا تاہم امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کا دعویٰ ہے کہ دونوں فریقین کے مابین یکم ستمبر سے قبل امن معاہدہ طے پاجائے گا۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے دوحہ میں مذاکرات کے آغاز کی تصدیق بھی کرتے ہوئے کہا: مذاکرات کا باقاعدہ آغاز صبح کیا جانا تھا تاہم وہ قدرے تاخیر دوپہر کے بعد شروع ہوئے، امریکا اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات کا یہ ساتواں دورہے۔
گزشتہ مذاکراتی دور میں دونوں فریقین کے مابین افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے دو اہم نکات زیر بحث رہےجس میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا سمیت طالبان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کی آماجگاہ نہیں بننے دیں گے جو عالمی حملے کرسکے۔
دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ قطر اور افغانستان کے حالیہ دورے کی بنیاد پر میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ دونوں فریقین مثبت پیش رفت کے خواہاں ہیں۔
خیال رہے چھٹے مذاکراتی دور میں بھی ناکامی پر زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ صرف مذاکرات ناکافی ہیں جب جھگڑے بہت اور عام لوگ مررہے ہوں‘۔
اس سے قبل 13 مارچ کو زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تازہ دور میں دونوں فریقین نے 'بڑی کامیابیوں' کا دعویٰ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فوجیوں کے انخلا اور انسداد دہشت گردی کو یقینی بنانے کے مسودے پر متفق ہیں۔
یاد رہے کہ مائیک پومپیو نے 26 جون کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے میں صدر اشرف غنی سے ملاقات میں طالبان سے جاری امن مذاکرات اور ستمبر میں افغان صدارتی انتخاب سے قبل سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
مائیک پومپیو نے افغانستان میں 7 گھنٹے گزارے اور ان کا یہ مختصر دورہ امریکی حکام اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے کے آغاز سے قبل سامنے آیا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں اس وقت امریکا کی فوجیوں کی تعداد 14 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے۔

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری