امریکا: تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع؛ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرے


امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد تارکین وطن کے خلاف اتوار سے ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے جس کے خلاف سینکڑوں لوگ امریکی صدر کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد تارکین وطن کے خلاف اتوار سے ملک کے 10 بڑے شہروں میں کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد جنوبی امریکا سے پناہ گزینوں کی آمد کو روکنا ہے۔
صدر ٹرمپ کے واضح اعلان کے بعد ڈیمو کریٹس میئرز نے تارکین وطن کے حقوق سے متعلق آگاہی کے لیے بھرپور تشہیری مہم چلائی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹس قانون سازوں نے تارکین وطن کو باقاعدہ سبق پڑھایا کہ وہ کسی امیگریشن افسر کے لیے اپنے بند دورازے نہ کھولیں اور وکیل کی مشاورت کے بغیر کسی کاغذ پہ دستخط بھی نہ کریں۔
ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مہاجرین مخالف پالیسیوں کے خلاف سینکڑوں افراد نے واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔
وائٹ ہائوس کے سامنے ہونے والے اس مظاہرے میں معروف شخصیات، فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والوں اور سول سوسائٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
مظاہرین نے صدر ٹرمپ کی مہاجرین مخالف پالیسیوں کی مذمت میں نعرے بھی لگائے۔ مظاہرے میں شریک لوگوں کا کہنا تھا فیملی کے لوگ ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔
میکسیکو کی سرحدوں پر بچوں کو والدین سے جدا نہ کیا جائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جن بچوں کو والدین سے جدا کیا گیا ہے انہیں فوری طور پر والدین کے سپرد کیا جائے۔ میکسیکو کی سرحد کے قریب اور امریکا کے دیگر شہروں میں بھی ایسے مظاہرے کیے گئے جن میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ نے دو ہزار غیر رجسٹرڈ مہاجرین کو گرفتار کر کے ملک بدر کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ امریکا میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کررہے ہیں۔